12 جولائی 2013 - 19:30

ترکي سے شام ميں بيروني دہشتگردوں کے داخلے کا سلسلہ جاري ہے-

ابنا: دوسري جانب  امريکي صدر باراک اوباما نے سعودي فرمانروا کے ساتھ ٹيليفوني گفتگو ميں دمشق حکومت کے خلاف جنگ ميں مصروف دہشتگردوں کي حمايت جاري رکھنے پر زور ديا ہے جبکہ عراق کے وزير خارجہ نے بتايا ہے کہ بعض حلقے شام کے بارے ميں جنيوا دو کانفرنس ملتوي کرانا چاہتے ہيں-

  شام کي خبررساں ايجنسي سانا کے مطابق  ايک ہفتے کے اندر فري سيرين آرمي نامي دہشتگرد گروہ کے تقريبا ڈيڑھ ہزار دہشتگرد ترکي سے شام ميں داخل ہوئے ہيں -رپورٹ کے مطابق ڈيڑھ ہزار دہشتگردوں نے  مختلف مرحلے ميں ترکي سے شام کي شمالي سرحدوں ميں دراندازي کي ہے اور ترکي کے حکام نے ان کے اس اقدام سے چشم پوشي کي ہے اور انہيں روکنے کي کوئي کوشش نہيں کي ہے-فري سيرين آرمي کے نام سے موسوم دہشتگرد گروہ کے ذرائع نے بتايا ہے کہ اس گروہ ميں دوسرے ملکوں کے  سترہ ہزار افراد شامل ہيں - اس رپورٹ کے مطابق فري سيرين آرمي کے عرب اراکين ميں اکثريت سعودي عرب کے دہشتگردوں کي ہے اور غير عرب اراکين ميں چیچن دہشتگردوں کي تعداد زيادہ ہے-ادھر امريکي صدر باراک اوباما نے جمعے کے روز سعودي فرمانروا ملک عبداللہ کے ساتھ ٹيليفوني گفتگو ميں ايک بار پھر اس بات پر زور ديا ہے کہ امريکا شام ميں بشار اسد کي حکومت کے خلاف جنگ کرنے والوں کي مدد کے وعدے پر  قائم ہے -وائٹ ہاؤ س کے مطابق باراک اوباما نے اس گفتگو ميں کہا ہے کہ واشنگٹن شام کے مخالفين کے اتحاد اور اسي طرح شام کے اندر جنگ کرنے والوں کي تقويت کے لئے ، شام کے مخالفين کي اعلي فوجي کونسل کي حمايت جاري رکھے گا -

  يہ ايسي حالت ميں ہے کہ باراک اوباما نے امريکا کي مرکزي انٹيليجنس ايجنسي،  سي  آئي اے کو چند ہفتہ قبل شام ميں حکومت کے خلاف  جنگ ميں مصروف  دہشتگرد گروہوں کے لئے ہلکے  اسلحے کي سپلائي کے پروجکٹ پر کام شروع کرنے کا حکم ديا تھا جس کي کانگریس ميں سخت مخالفت کي گئي ہے اور بتايا گيا ہے کہ اس پر عمل درآمد کانگریس نے روک ديا ہے ليکن رپورٹوں ميں بتاگيا ہے کہ امريکا نے شام ميں سرگرم دہشتگرد گروہوں کے لئے  سعودي عرب کے ذريعے بھاري مقدار ميں اسلحہ اور ديگر جنگي سازوسان بھيج ديا ہے-

.......

/169